یہ اِکرام ہے مصطفیٰ پر خدا کا
یہ بیٹھا ہے سکہ تمہاری عطا کا
چمکتا ہوا چاند غارِ حرا کا
لحد میں عمل ہو نہ دیو بلا کا
جو بندہ خدا کا وہ بندہ تمہارا
مِرے گیسوؤں والے میں تیرے صدقے
تِرے زیر پا مسندِ مُلک یزداں
سہارا دیا جب مِرے ناخدا نے
کیا ایسا قادِر قضا و قدر نے
اگر زیر دیوارِ سرکار بیٹھوں
ادَب سے لیا تاجِ شاہی نے سر پر
خدا کرنا ہوتا جو تحت مشیت
اَذاں کیا جہاں دیکھو ایمان والو
کہ پہلے زباں حمد سے پاک ہو لے
یہ ہے تیرے اِیمائے اَبرو کا صدقہ
ترا نام لے کر جو مانگے وہ پائے
نہ کیونکر ہو اس ہاتھ میں سب خدائی
جو صحرائے طیبہ کا صدقہ نہ ملتا
عجب کیا نہیں گر سراپا کا سایہ
خدا مدح خواں ہے خدا مدح خواں ہے
خدا کا وہ طالب خدا اس کا طالب
جہاں ہاتھ پھیلا دے منگتا بھکاری
تِرے رتبہ میں جس نے چون و چرا کی
تِرے پاؤں نے سر بلندی وہ پائی
کسی کے جگر میں تو سر پر کسی کے
ترا دَردِ اُلفت جو دِل کی دوا ہو
تِرے بابِ عالی کے قربان جاؤں
چلے آؤ مجھ جاں بلب کے کنارے
بھلا ہے حسنؔ کا جنابِ رضا سے
— Hassan Raza Khan Barelvi\
