ہم نے تقصیر کی عادت کرلی
میں چلا ہی تھا مجھے روک لیا
ذِکرِ شہ سن کے ہوئے بزم میں محو
نارِ دوزخ سے بچایا مجھ کو
بال بیکا نہ ہوا پھر اس کا
رَکھ دیا سر قدمِ جاناں پر
نعمتیں ہم کو کھلائیں اور آپ
اس سے فردوس کی صورت پوچھو
شانِ رحمت کے تصدق جاؤں
فاقہ مستوں کو شکم سیر کیا
اے حسنؔ کام کا کچھ کام کیا
— Hassan Raza Khan Barelvi\
