حُبِّ دُنیا سے تُو بچا یارب
کردے حج کا شَرَف عطا یارب
ہے تِری ہی عنایت ورحمت
آج ہے رُوبرو مرے کعبہ
اَبْر برسا دے نور کا میں لوں
کاش لب پر مِرے رہے جاری
چشمِ تَر اور قلبِ مُضْطَر دے
آہ! طُغیانیاں گناہوں کی
نفس و شیطان ہوگئے غالب
کر کے توبہ میں پھر گناہوں میں
نِیم جاں کر دیا گناہوں نے
کس کے در پر میں جاؤں گا مولا
وقتِ رِحلَت اب آگیا مولٰی
قبر میں آہ! گُھپ اندھیرا ہے
سانپ لپٹیں نہ میرے لاشے سے
نورِ احمد سے قبر روشن ہو
ہائے! حُسنِ عمل نہیں پلّے
گرمیِ حشْر، پیاس کی شدّت
خوف دوزخ کا آہ! رحمت ہو
میرا نازُک بَدن جہنَّم سے
طالِبِ مغفِرت ہوں یااللہ
سب نے ٹھکرادیا تو کیا پروا
زُلفِ مَحبوب کا بنا قَیدی
مُشکِلوں میں دے صبر کی توفیق
دے دے سوزِ بِلال یااللہ
آہ! اَعدا ہیں خون کے پیاسے
دے شہادت مجھے مدینے میں
سبز گنبد کے زیرِ سایہ ہو
قبر میری بنے مدینے میں
حِرصِ دنیا نکال دے دل سے
دیدے ’’قُفلِ مدینہ‘‘ آنکھوں کا
دیدے ’’قُفلِ مدینہ‘‘ لب کا بھی
کاش!عادت فُضُول باتوں کی
واسِطہ میرے پیرومرشِد کا
دِل کا اُجڑا چمن ہو پھر آباد
ہر برس کاش! آکے مکّے میں
جس کسی نے کہا،’’دُعا کرنا‘‘
کر دے جنّت میں تُو جَوار اُن کا
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
