آمِنہ عطاریہ حج کو چلے اُمّید ہے
مرحبا تم کو مبارَک ہو مدینے کاسفر
یاخُدا! آسان ہو اِس کیلئے حج کا سفر
رونے والی آنکھ دے اور چاک سینہ کر عطا
ذرّے ذرّے کا ادب اللہ اِس کو ہو نصیب
امتِحاں درپیش ہو راہِ مدینہ میں اگر
کوئی دُھتکارے یا جھاڑے بلکہ مارے صَبر کر
راہِ جاناں کا ہراِک کانٹا بھی گویا پھول ہے
تم زَباں کا آنکھ کا ’’قُفلِ مدینہ‘‘ لو لگا
گفتگو صادِر نہ کچھ بے کار ہو اِحرام میں
جب کرے تُو خانۂ کعبہ کا رو رو کر طواف
تیرا حجّن! جس گھڑی ہو داخِلہ عَرفات میں
حالتِ اِحرام میں یادِ کَفَن ہو قَبْر ہو
نو کو جب عَرفات میں حاجی اِکٹھّے ہوں سبھی
جس گھڑی کرنے لگے قُرباں مِنٰی میں جانور
حاضِری ہو جب مدینے میں تمہاری حَجَّنو!
لے کے حجّن! بارگاہِ مصطفٰے میں میرا نام
رو کے کرنا میرے ایماں کی حفاظت کی دُعا
اِس کا حج یارب! نبی کا واسِطہ کر لے قَبول
اپنے مُنہ سے خود کو حجّن تُو کبھی کہنا نہیں
ہر برس حج کا شَرَف پاؤ مدینے جاؤ تم
کرنا تم عطارؔ کے حق میں دعائے مغفِرت
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
