بختِ خفتہ نے مجھے روضہ پہ جانے نہ دیا
آہ قسمت مجھے دنیا کے غموں نے روکا
پاؤں تھک جاتے اگر پاؤں بناتا سر کو
اِتنا کمزور کیا ضعفِ قُویٰ نے مجھ کو
سر تو سر جان سے جانے کی مجھے حسرت ہے
حالِ دِل کھول کے دِل آہ اَدا کر نہ سکا
ہائے اس دل کی لگی کو میں بجھاؤں کیونکر
ہاتھ پکڑے ہوئے لے جاتے جو طیبہ مجھ کو
سجدہ کرتا جو مجھے اس کی اجازت ہوتی
حسرتِ سجدہ یونہی کچھ تو نکلتی لیکن
کوچۂ دِل کو بسا جاتی مہک سے تیری
کبھی بیمارِ محبت بھی ہوئے ہیں اچھے
شربتِ دِید نے اَور آگ لگادی دل میں
اب کہاں جائے گا نقشہ ترا میرے دل سے
دیس سے ان کے جو اُلفت ہے تو دل نے میرے
دیس کی دُھن ہے وہی راگ اَلاپا اس نے
نفسِ بدکار نے دل پر یہ قیامت توڑی
نفسِ بدکیش ہے کس بات کا دِل پہ شاکی
میرے اَعمال کا بدلہ تو جہنم ہی تھا
میرے اَعمالِ سیہ نے کیا جینا دُوبھر
اَور چمکتی سی غزل کوئی پڑھو اے نوریؔ
— Mustafa Raza Khan Noori\
