شکریہ آپ کا سلطان مدینے والے
مجھ کمینے کو مدینے میں بُلایا تم نے
زائرِ قَبرِ مُنوَّر کی شَفاعت ہوگی
میں بھی تو زائرِ رَوضہ ہوں رسولِ عَرَبی!
دولتِ عشق سے آقا مِری جھولی بھر دو
آپ کے عشق میں اے کاش کہ روتے روتے
تیرے در پر تو عَدو کو بھی اَماں ملتی ہے
اپنے قدموں سے خدارا نہ جُداکیجےگا
آپ بھوکے رہیں اور پیٹ پہ پتّھر باندھیں
حَشر میں تم مِرے عَیبوں کو چُھپائے رکھنا
میں مدینے کی گلی کا کوئی کُتّا ہوتا
مجھ کو دیوانہ مدینے کا بنالو آقا
اِک جھلک چِہرۂ انور کی دکھا دو اَب تو
اِس گنہگار کو دامن میں چھپا لو آقا!
کاش! عطارؔ ہو آزاد غمِ دنیا سے
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
