فرقت طیبہ کی وحشت دل سے جائے خیر سے
رات میری دن بنے ان کی لقائے خیر سے
ہیں غنی کے در پہ ہم بستر جمائے خیر سے
وہ خرام ناز فرمائیں جو پائے خیر سے
اس طرف بھی دو قدم جلوے خرام ناز کے
انتظار ان سے کہے ہے بزبان چشم نم
شام تنہائی بنے رشک ہزاراں انجمن
ہو مجھے سیر گلستان مدینہ یوں نصیب
زندہ باد اے آرزوئے باغ طیبہ زندہ باد
نجدیوں کی چیرہ دستی یا الہٰی تا بکے
جھانک لو آنکھوں میں ان کی حسرتِ طیبہ لئے
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\
