طیبہ کے مسافِر مجھے تو بھول نہ جانا
رو رو کے نبی کو مِری رُوداد سنانا
ہو مجھ پہ کرم صدقے میں سلطانِ دَنا کے
کہتا تھا پھر اللہ مجھے حج پہ بلانا
بے چارہ مدینے سے بَہُت دُور پڑا ہے
کہتا تھا مجھے حاضِری کا اِذن دِلانا
کہنا بڑا عرصہ ہوا طیبہ نہیں پہنچا
مسکین کو اب قدموں میں سرکار بلانا
اے راہِ مدینہ کے مسافر تو ٹَھَہر کر
کر حق سے دعا رنج و الم اِس کے مٹانا
تو رب کا ہے مہماں رہِ جاناں کا ہے عازِم
اللہ سے کر عرض اِسے دوزخ سے بچانا
اللہ کے گھر کا جُوں ہی دیکھے تو دَوارا
گر ہوش ہوں قائم ترے مجھ کو نہ بُھلانا
رو رو کے تو کرنا مِرے حق میں یہ دعائیں
کر عرض خدا سے تو اسے نیک بنانا
بَہکاتا ہے شیطان تو ہے نفس ستاتا
کر حق سے دعا اِس کوگناہوں سے بچانا
سکرات کے صدمے مِرے بس میں نہیں سہنا
جلوہ بھی دکھانا مجھے کلمہ بھی پڑھانا
کہتا تھا بُرے خاتمے کا خوف بڑا ہے
یارب اسے ایمان پہ دُنیا سے اٹھانا
نادِم ہے مزید اِس کو تُو شَرمندہ نہ کرنا
کر عرض خدا سے اِسے جنّت میں بسانا
جب تک ہو مدینے میں مُیسَّر تجھے رہنا
خیرات شَفاعت کی تَبَرُّک میں لے آ نا
اخلاص کی اللہ اسے کر دے عطا بھیک
حَسَنین کے صدقے اِسے ہنس مُکھ تو بنانا
چھائی ہے مِرے رخ پہ گناہوں کی سیاہی
کر عرض، انہیں آتا ہے تقدیر بنانا
کہنا کہ ندامت اسے عصیاں پہ بڑی ہے
تم نَزع میں دیدار کا جام اِس کو پلانا
کہتا تھا کراچی میں نہیں مجھ کو ہے مرنا
سلطانِ مدینہ اِسے قدموں میں سُلانا
تو دعوتِ اسلامی کے حق میں یہ دعا دے
فرمائیں کرم اِس پہ شہنشاہِ زمانہ
جب گنبدِ خضرا کو نظر جھوم کے چومے
کہنا: کَہَیں ، عطارؔ ہمارا ہے دِوانہ
طیبہ کے مسافِر مجھے تو بھول نہ جانا
رو رو کے نبی کو مِری رُوداد سنانا
ہو مجھ پہ کرم صدقے میں سلطانِ دَنا کے
کہتا تھا پھر اللہ مجھے حج پہ بلانا
بے چارہ مدینے سے بَہُت دُور پڑا ہے
کہتا تھا مجھے حاضِری کا اِذن دِلانا
کہنا بڑا عرصہ ہوا طیبہ نہیں پہنچا
مسکین کو اب قدموں میں سرکار بلانا
اے راہِ مدینہ کے مسافر تو ٹَھَہر کر
کر حق سے دعا رنج و الم اِس کے مٹانا
تو رب کا ہے مہماں رہِ جاناں کا ہے عازِم
اللہ سے کر عرض اِسے دوزخ سے بچانا
اللہ کے گھر کا جُوں ہی دیکھے تو دَوارا
گر ہوش ہوں قائم ترے مجھ کو نہ بُھلانا
رو رو کے تو کرنا مِرے حق میں یہ دعائیں
کر عرض خدا سے تو اسے نیک بنانا
بَہکاتا ہے شیطان تو ہے نفس ستاتا
کر حق سے دعا اِس کوگناہوں سے بچانا
سکرات کے صدمے مِرے بس میں نہیں سہنا
جلوہ بھی دکھانا مجھے کلمہ بھی پڑھانا
کہتا تھا بُرے خاتمے کا خوف بڑا ہے
یارب اسے ایمان پہ دُنیا سے اٹھانا
نادِم ہے مزید اِس کو تُو شَرمندہ نہ کرنا
کر عرض خدا سے اِسے جنّت میں بسانا
جب تک ہو مدینے میں مُیسَّر تجھے رہنا
خیرات شَفاعت کی تَبَرُّک میں لے آ نا
اخلاص کی اللہ اسے کر دے عطا بھیک
حَسَنین کے صدقے اِسے ہنس مُکھ تو بنانا
چھائی ہے مِرے رخ پہ گناہوں کی سیاہی
کر عرض، انہیں آتا ہے تقدیر بنانا
کہنا کہ ندامت اسے عصیاں پہ بڑی ہے
تم نَزع میں دیدار کا جام اِس کو پلانا
کہتا تھا کراچی میں نہیں مجھ کو ہے مرنا
سلطانِ مدینہ اِسے قدموں میں سُلانا
تو دعوتِ اسلامی کے حق میں یہ دعا دے
فرمائیں کرم اِس پہ شہنشاہِ زمانہ
جب گنبدِ خضرا کو نظر جھوم کے چومے
کہنا: کَہَیں ، عطارؔ ہمارا ہے دِوانہ
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
