غم کے ماروں پر کرم اے دوجہاں کے تاجدار
صَدقے جاؤں مجھ سے عاصی پر شہِ کون و مکاں
جو تڑپتے ہیں مدینے کی زیارت کے لیے
ہو مِرا سینہ مدینہ تاجدارِ انبیا
ازپئے غوث و رضا مسکَن مدینہ دو بنا
گھومتے رہتے ہو تم آقا کی گلیوں میں سدا
بُلبلو تم کو مبارَک پھول، پر میری نظر
آج کے اس سنّتوں کے اجتماعِ پاک میں
کچھ تو کر احساس بھائی چھوڑ نافرمانیاں
میرے غیرت مند بھائی مت مُنڈا داڑھی کو تو
چھوڑ اَنگریزی طریقے اور فیشن چھوڑ دے
دے شَرَف عطارؔ کو ہرسال حج کا یاخدا
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
