غمِ فُرقت دِلِ عُشّاق کو بے حد رُلاتا ہے
مجھے اُس کے مُقدَّر پر بڑا ہی رَشک آتا ہے
مجھے اُس وَقْت دیوانے پہ بے حد پیار آتا ہے
یہ بیمارِ مدینہ ہے طبیبو! تم نہ سمجھو گے
دکھا دو سبز گنبد کی بہاریں یارسولَ اللہ
مدد سرکار فرماتے ہیں دیوانہ اگر کوئی
عطا کردو عطا کردو بقیعِ پاک میں مدفَن
نہیں ہے چاند سورج کی مدینے کو کوئی حاجت
حُکومت کی طلب دل میں ، نہ خواہِش تاجِ شاہی کی
سخاوت بھی ترے گھر کی عنایت بھی ترے گھر کی
عِبادت ہو تو ایسی ہو ،تِلاوت ہو تو ایسی ہو
برستی ہے خدا کی اُس پہ رَحمت جھوم کر عطارؔ
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
