کب گناہوں سے کَنارا میں کروں گا یارب
کب گناہوں کے مَرض سے میں شِفا پاؤں گا
گر ترے پیارے کا جلوہ نہ رہا پیشِ نظر
نَزع کے وقت مجھے جلوۂ محبوب دکھا
قبر میں گر نہ محمد کے نظارے ہوں گے
ڈنک مچھر کا سَہا جاتا نہیں ، کیسے میں پھر
گُھپ اندھیرے کا بھی وَحشت کا بسیرا ہوگا
گر کفن پھاڑ کے سانپوں نے جمایا قبضہ
ہائے! معمولی سی گرمی بھی سہی جاتی نہیں
آج بنتا ہوں مُعزَّز جو کھلے حشر میں عیب
پُل صِراط آہ! ہے تلوار کی بھی دھار سے تیز
قبر محبوب کے جلووں سے بسا دے مالِک
گر تُو ناراض ہوا میری ہلاکت ہوگی
دردِسر ہو یا بُخار آئے تڑپ جاتا ہوں
عَفو کر اور سدا کے لئے راضی ہوجا
تو ہے مُعطی وہ ہیں قاسم یہ کرم ہے تیرا
چشمِ نَم دے غمِ سلطانِ اُمَم دے مولی
دے دے مرنے کی مدینے میں سعادت دیدے
مجھ گنہگار پہ گر خاص کرم ہوجائے
حج کا ہر سال شَرَف دیدے تو مکّے آکر
کاش! ہر سال مدینے کی بہاریں دیکھوں
اِذْن سے تیرے سَرِ حشر کہیں کاش! حُضُور
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
