کیوں بارہویں پہ ہے سبھی کو پیار آگیا
گھر آمِنہ کے سیِّدِاَبرار آگیا
جس وقت کوئی مَرحَلہ دُشوار آگیا
برسِیں گھٹائیں رحمتوں کی جھوم جھوم کر
عرصہ جدائی کو ہوا اب تو بلائیے
آؤں گا جب مدینے تو رو کر کہوں گا میں
بارِگناہ سر پہ ہے آنکھوں میں اَشک ہیں
مجھ کو شفا دو یانبی مَرضِ گناہ سے
بیمار اپنے عشق کا مجھ کو بنائیے
کاسہ لیے امّید کا سلطانِ دو جہاں
خالی نہ لوٹا کوئی بھی دربار سے کبھی
سرکار! مجھ کو شربتِ دیدار ہو عطا
غوث و رضا کا واسِطہ ہم کو بلائیے
جوتے اتارلو چلو باہوش باادب
اب سر جھکائے زائرو! پڑھتے ہوئے دُرُود
عشقِ نبی میں اشک کرو پیش زائرو
آگے بڑھو اے عاصیو قدموں میں جا پڑو
اب مسکراتے آئیے سُوئے گناہ گار
عطارؔ کو جو دیکھا اُٹھا حشر میں یہ شور
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
