تیری چوکھٹ پہ جو سر اپنا جھکا جاتے ہیں
سرفرازیٔ اجل ان کو ملا کرتی ہے
ڈوبے رہتے ہیں تیری یاد میں جو شام و سحر
اے مسیحا ترے بیمار ہیں ایسے بیمار
مرنے والے رخِ زیبا پہ ترے جانِ جہاں
آسماں تجھ سے اٹھائے نہ اٹھیں گے سن لے
ذکر سرکارا بھی کیا آگ ہے جس سے سنی
جن کو شیرینیٔ میلاد سے گھن آتی ہے
دشت طیبہ میں نہیں کیل کا کھٹکا اخترؔ
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\
