کرم ہو جان کو ہے سخت خطرہ یارسولَ اللہ
بُلاؤں کس طرح میں اپنی کُٹیا میں تمہیں سروَر
اگر چشمِ کرم ہو تو تَلاطُم خیز موجوں سے
میں اِس دنیائے فانی میں بھی قبرو حشر و جنّت میں
یقینا جس کے آگے چودہویں کا چاند شرمائے
کرم سے تم بلاتے ہو کرم ہی سے تم آتے ہو
میں بن جاؤں گا دیوانہ میں ہوجاؤں گا مستانہ
تمہاری یاد میں رویا کروں تڑپا کروں کر دو
رُلائے تیرا غم، دنیا کے غم میں میرے آنسو کا
بلا لو گُنبَدِ خَضرا کی ٹھنڈی ٹھنڈی چھاؤں میں
سعادت کربلا کی حاضِری کی بھی عنایت ہو
نکلنے والی ہے اب روحِ مُضطَرجسم سے جاناں
ہوئی جاتی ہے ہائے عمر ضائع جانتا ہوں میں
کرم! عطاؔرِ بداطوار کے گلزار پر آقا
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
