طبیعت آج کیوں ایسی رَسا ہے
صبا کیوں اس قدر اِترا رہی ہے
عنا دِل گارہی ہیں کیوں ترانے
یہ کیسے شادیانے بج رہے ہیں
تحیرّ جب بڑھا ہاتف پکارا
براتی ہیں تمامی اہلسنت
توکل کے شجر میں پھل یہ آیا
ترانے گارہی ہیں قمریاں آج
امیدوں کے کھلے ہیں آج غنچے
بریلی کا نصیبہ جگمگایا
براتی آرہے ہیں وجد کرتے
یہ دیکھو صدقۂ صدیقِ اکبر
یہ ہے فاروقِ اعظم کی کرامت
کرم عثمان ذُوالنورین کا ہے
سخاوت ہے عَلِّی مرتضٰی کی
گھٹا بغداد سے اُٹھی کرم کی
یہ ہے بغداد والے کا تصرف
مبارک اہلسنت کو مبارک
کہیں کیونکر نہ اچھے تجھ کو اچھا
بھکاری آرہے ہیں بھیک لینے
جلیں اَعدائے دیں نار حسد میں
رضا کیونکر نہ ہواَعدا پہ غالب
منافق ہے عدو اس آستاں کا
رُخِ قبلہ اگر پوچھو تو کہہ دوں
بِحَمْدِ اللہ خوشبوئے رضا سے
پھلے اُن کا الٰہی باغِ اولاد
جمیلِؔ قادری اَلْحَمْدُ لِلّٰہ
— Jamil Ur Rehman Qadri\
