مِٹا میرے رنج و اَلَم یاالٰہی
شرابِ محبت کچھ ایسی پِلا دے
مجھے اپنا عاشِق بنا کر بنا دے
فَقَط تیرا طالِب ہوں ہرگز نہیں ہوں
نہ دے تاجِ شاہی نہ دے بادشاہی
جو عشقِ محمد میں آنسو بہائے
شَرَف حج کا دیدے چلے قافِلہ پھر
دکھا دے مدینے کی گلیاں دکھا دے
چلے جان اِس شان سے کاش یہ سر
مِرا سبز گنبد کے سائے میں نکلے
عبادت میں لگتا نہیں دل ہمارا
مجھے دیدے ایمان پر اِستقامت
مِرے سر پہ عِصیاں کا بار آہ مولٰی
حُقُوقُ العِباد! آہ! ہوگا مِرا کیا!
بڑی کوششیں کی گنہ چھوڑنے کی
مجھے سچّی توبہ کی توفیق دیدے
جو ناراض تُو ہوگیا تو کہیں کا
مجھے نارِ دوزخ سے ڈر لگ رہا ہے
سدا کیلئے ہوجا راضی خدایا
خدایا بُرے خاتِمے سے بچانا
گناہوں سے بھر پور نامہ ہے میرا
تُلیں میرے اعمال میزاں پہ جس دم
میں تھا لائقِ نارِ دوزخ خدایا
بروزِ قیامت ہو ایسی عنایت
جَلا دے نہ نارِ جہنم کرم ہو
گناہوں کی عادت بڑھی جا رہی ہے
گناہوں کی تاریکیاں چھا گئی ہیں
چلے قبر میں سب اکیلا لِٹا کر
نکیرین بھی قبر میں آچکے ہیں
قِیامت کی گرمی میں کیسے سہوں گا
یہود و نصاریٰ کو مغلوب کردے
مجھے دونوں عالم کی خوشیاں عطا ہوں
جو بیمار آئے شِفا پاکے جائے
میں تحریر سے دِیں کا ڈنکا بجادوں
تُو عطّارؔ کو بے سبب بخش مولیٰ
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
