نبی آج پیدا ہوا چاہتا ہے
علم نصب ہے جس کا کعبہ کی چھت پر
نہ کیوں آج کعبہ بنے رَشکِ گلشن
یہ رو رو کے آپس میں بت کہہ رہے ہیں
تری ہے سماوا میں ساوا میں خشکی
ندا آرہی ہے کہ حق کے قمر کا
وُحوش و طیور آج گویا ہیں باہم
خریدے گا عصیاں کو رحمت کے بدلے
یہ عالم بنایا ہے جس کا براتی
جو عالم کو قطرے سے سیراب کردے
فلک کے ستارے جھکے آرہے ہیں
خدا کے خزانوں کا مختار و حاکم
سلاطینِ عالم گدا ہوں کہ اس کا
کہانت کے دَفتر پہ آئی تباہی
یہ کہتے ہیں اَشجار و اَحجار باہم
ملائک مؤدب رہیں حکمِ حق ہے
اُٹھو بہرِ تعظیم اے اَہلِ محفل
صلوۃ و سلام عرض کر اے جمیلؔ اب
— Jamil Ur Rehman Qadri\
