کرتے ہیں جن و بشر ہر وقت چرچا غوث کا
نارِ دوزخ سے بچائے گا سہارا غوث کا
نزع میں مرقد میں محشر میں مدد فرمائیں گے
خالقِ کون و مکاں نے پہلے ہی روزِ اَزل
کیا عجب بے پوچھے مجھ کو چھوڑ دیں منکر نکیر
نزع میں مرقد میں محشر میں کہیں بھی یاخدا
ہاں ذرا ٹھہرو فرشتو پھر جو چاہو پوچھنا
سب خس و خاشاکِ عصیاں آن میں بہ جائے گا
جھولیاں پھیلاؤ دوڑو بھیک لو دامن بھرو
آنکھیں ملنے کے لیے ہاتھ آئے چوکھٹ غوث کی
سجدہ گاہِ جن و اِنساں آپ کا نقشِ قدم
روشنیِ شمع سے کیا کام اَندھی آنکھ کو
سلطنت شاہِ مَدینہ نے عطا فرمائی ہے
جلتے ہیں دشمن خدا کے ان کے ذِکر و فکر سے
کررہے ہیں اَشقیا کوشش گھٹانے کی مگر
نقشۂ شاہِ مَدینہ صاف آتا ہے نظر
صدقے اس بندہ نوازی کے فدا اس دَین کے
حشر میں اُٹھا ہوا ہے رُوئے اَنور سے نقاب
عمر بھر رکھنا جمیلؔ قادری وِردِ زباں
غوث کو کیونکر نہ آئے پیار تم پر اے جمیلؔ
— Jamil Ur Rehman Qadri\
