نہ دولت نہ مال اور خَزینے کی باتیں
مدینے کی باتیں سناؤ کہ ہیں یہ
مُقَدَّس ہیں دیگر مہینے بھی لیکن
سناؤ نہ پیرس کے قصّے، سناؤ
نہ کر مُشک و عنبر کی باتیں ، بیاں کر
مِری یاوَہ گوئی کی عادت نکالو
فُضول اور بیکار باتوں کے بدلے
گوگرمی میں مشروب ٹھنڈاہے مرغوب
شہا میرا! سینہ مدینہ بنادو
بنے کاش! عطارؔ ایسا مبلّغ
— Unknown
