نہیں میرے اچھے عمل غوثُ الاعظم
ترا دامن پاک مجھ سے نہ چھوٹا
حسین و حسن پھول باغِ نبی کے
ہے قولِ خضر یہ کہ سب اَولیا میں
بھکاری ترے شمس و زُہرہ عطارِد
ترے نام کا جو بھی تعویذ باندھے
کیا تو نے آرام اس جاں بلب کو
شفا خانۂ عام دَربارِ عالی
کیا اِک نگاہِ کرم نے تمہاری
جو دنیا میں ہوگا مدد خواہ اُن سے
کھلادے کلی دل کی میں تیرے صدقے
دِلاسے کو رکھ ہاتھ سینے پہ میرے
ہیں مشکل کشا جد اَمجد تمہارے
کرم کے ہیں پیاسے ترے نام لیوا
تری خاکِ دَر کا بنائیں جو سرمہ
تمنا ہے دل میں کہ بغداد پہنچوں
ترے در پہ رکھا ہوا ہو مرا سر
مجھے شکل اپنی دکھانا خدارا
بہار آئے جس سے ہوا وہ چلا دے
ہوئی چار جانب سے اَعدا کی یورِش
کچھ ایسا ہوا تیری عزت کا شہرہ
یہ قادِر کے گھر سے ملی تجھ کو عزت
عطا دِین اسلام کو ہو ترقی
جمیل آرزو ہے کہ مجھ کو بلا کر
— Jamil Ur Rehman Qadri\
