قافلہ سوئے مدینہ آرہا ہے ہو کرم
قافلہ اب چل مدینہ کا چلا سوئے حرم
قافلے میں ’’چل مدینہ‘‘ کے ہیں جتنے بھی شریک
شاہِ والا! میں گنہگاروں کا بھی سردار ہوں
فضل رب سے آپ تو ہر چیز کے مختار ہیں
یانبی! مجھ کو بنادو تم مدینے کا فقیر
یانبی! ہم کو شفاعت کی عطا خیرات ہو
گنبد خضرا کو چومے جس گھڑی میری نظر
دم لبوں پر آگیا عطارؔ کا یامصطفی
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
