ہو مدینے کا ٹِکَٹ مجھ کو عطا داتا پیا
مجھ کو رَمضانِ مدینہ کی زیارت ہو نصیب
دو نہ دو مرضی تمہاری تم مدینے کا ٹِکَٹ
دولتِ دنیا کا سائل بن کے میں آیا نہیں
کاش میں رویا کروں عشقِ رسولِ پاک میں
غم مجھے میٹھے مدینے کا عطا کر دو شہا
میٹھے میٹھے مصطَفٰے کی بارگاہِ پاک میں
گو ذلیل وخوار ہوں پاپی ہوں میں بدکار ہوں
آرزو ہے موت آئے گنبدِ خَضرا تلے
میں ہوں عصیاں کا مریض اور تم طبیبِ عاصِیاں
آپ کی چشمِ کرم ہو جائے گر بدحال پر
کیا غَرَض دردر پھروں میں بھیک لینے کیلئے
جھو لیاں بھر بھر کے لے جا تے ہیں منگتے رات دن
مجھ کو داتا تاجدارانِ جہاں سے کیا غَرَض
اُجڑے گھر آباد ہوں اور غم کے مارے شادہوں
دُم دبا کر بھا گ جائے شَیر بھی گر دیکھ لے
کا ش! پھر لاہور میں نیکی کی دعوت عام ہو
مسجِدیں آباد ہوں اور سنّتیں بھی عام ہوں!
سارے منگتے اپنے چِہرے پر سجا ئیں داڑھیاں
تختِ شاہی کی نہیں ہے آرزو عطارؔ کو
— Unknown
