خدا کی ہے عنایت ماہِ رمضان آنے والا ہے
مہِ رَمضاں، مہِ غفراں، مہِ سبحاں، مہِ رَحماں
مساجد ہوں گی پھر آباد شیطاں جل مرے ناشاد
دل مغموم پھر اِک بار خوشیوں سے ہوا سرشار
خوشی سے جھومتا ہے دل مچی ہے قلب میں ہلچل
تراویح اور، نمازوں میں، کمی ہو گی نہ روزوں میں
الٰہی! عافیت دینا، سلامت دل عطا کرنا
میں رمضان المبارک پاؤں روزے سارے رکھ پاؤں
نبی کے عشق میں روؤں، مدینے کیلئے تڑپوں
رہوں قائم میں توبہ پر، خدایا فضل ایسا کر
خدا ایسی عنایت کر، میں کانپوں خوف سے تھر تھر
عبادت میں ریاضت میں، درودوں میں تلاوت میں
محمد مصطَفٰے صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا واسطہ تو بخش دے مولٰی
خدا عطارؔ کی بخشش، تو فرما دے بلا پرسش
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
