یارسولَ اللہ تیرے چاہنے والوں کی خیر
کاش کے ہجرِ مدینہ مجھ کو رکھے بیقرار
یانبی اب تو مدینے میں مجھے بلوایئے
کاش! طیبہ میں شہادت کا عطا ہو جائے جام
فالتو باتوں کی عادت دُور ہو جائے حُضُور!
عائد آقا فردِ عصیاں ہو گئی کر دے کرم
تیز ہے تلوار کی بھی دھار سے یہ پُلْ صراط
اُمّتِ محبوب کا یارب بنا دے خیر خواہ
جام ایسا اپنی الفت کا پِلا دے ساقیا
— Unknown
