یادِ شہِ بطحا میں جو اَشک بہاتے ہیں
جو یادِ مدینہ کو سینوں میں بَساتے ہیں
کِس پیار سے اُمّت کے وہ ناز اُٹھاتے ہیں
وہ اپنے غلاموں کو دوزخ سے بچاتے ہیں
سرکار کِھلاتے ہیں سرکار پِلاتے ہیں
روتے ہیں تڑپتے ہیں یہ آپ کے دیوانے
بِپھری ہوئی موجوں میں جب اُنکو پکارا ہے
جتنے بھی ہیں دیوانے ان سب کو بُلا لیجے
یہ آپ کی مرضی ہے جن پر بھی کرم کردیں
وہ حَشر کے مَیداں میں دامن میں چُھپائیں گے
غم مُجھ کو مدینے کا سرکار عطا کردو!
قُربان! سرِ محشر ہم پیاس کے ماروں کو
عَرصہ ہُوا اے آقا! طیبہ سے جُدائی کو
— Unknown
