یاغوث! بلاؤ مجھے بغداد بلاؤ
دنیا کی مَحَبَّت سے مِری جان چھڑاؤ
چمکا دو سِتارہ مری تقدیر کا مرشِد!
نَیّا مِری منجدھار میں سرکار! پھنسی ہے
حَسنین کے صدقے ہوں مری مشکلیں آساں
یاپیر!میں عِصیاں کے تلاطُم میں پھنسا ہوں
اچّھوں کے خریدار تو ہر جا پہ ہیں مرشِد!
اَحکامِ شریعت رہیں مَلحُوظ ہمیشہ
عطّارؔ جہنَّم سے بَہُت خوف زدہ ہے
— Unknown
