جان و دِل سے تم پہ میری جان قرباں غوثِ پاک
میں ترا اَدنیٰ بھکاری تو مرا سلطان ہے
میں ترا مَمْلوک تو مَالک میں بندہ تو ہے شاہ
سجدہ گاہِ اَولیائے دَہر ہے نقشِ قدم
اَولیا ہیں سب سلاطیں ہم رعایا و غلام
ہاتھ خالی رُوسیہ عاصی یہ سب کچھ ہوں مگر
آپ کی چشم کرم کا اِک اشارہ ہو اگر
ناز قسمت پہ کروں پاؤں جہاں کی سروَری
کب بلائیں اپنے دَر پر کب رخِ اَنور دکھائیں
میری آنکھیں تیرا گنبد تیری چوکھٹ میرا سر
زندگی میں نزع میں مرقد میں حشر و نشر میں
آپ کا نام مقدس میرے دل پر نقش ہے
ہم بھی عصیاں لے کے جائیں گے بدلنے کے لیے
کوئی پوچھے یا نہ پوچھے بات کچھ خطرہ نہیں
پرسش اَعمال کا ہے وقت مولے المدد
بھیجا تو نے ہی معین الدین چشتی کو یہاں
تیرے ہوتے ساتے آئے یوں مسلمانوں میں ضعف
کالے کالے کفر کے بادَل اُمنڈ کر آئے ہیں
لٹ رہا ہے قافلہ بغداد والے لے خبر
ظالموں نے ظلم سے بندوں کو کر ڈالا ہلاک
ہے کدھر آ دیکھ تو بندوں کی کیا حالت ہوئی
لاج والے سنیوں کی لاج تیرے ہاتھ ہے
ہو رضا پر لطف تیرا ہم پر اُن کا لطف ہو
کیجئے اِمداد عزت دوجہاں میں دیجئے
— Jamil Ur Rehman Qadri\
