طلوعِ شمس و قمر سے پہلے میں تجھ پہ آقا درود بھیجوں
سفر کا آغاز جب کروں میں , میرے لبوں پر ہو نام تیرا
خدا کی بھیجی کتاب تو ہے میرا تو سارا نصاب تو ہے
ہے رونقِ کائنات تجھ سے ہرا ہے نخلِ حیات تجھ سے
میں اپنے بچوں میں بیٹھ کر بھی سناؤں بدر و احد کی باتیں
بس ایک حبِ رسول فخری میں اپنے ورثہ میں چھوڑ جاؤں
— Zahid Fakhri\
