مرحبا! مقدَّر پھر آج مسکرایا ہے
خوب مسجدِ نبوی کا حسین ہے منظر
میری گندی آنکھوں کو ان نجس نگاہوں کو
مجھ سا پاپی اور بدکار اور آپ کا دربار!
یانبی! شِفا دیدو ازپئے رضا دے دو
جس کو سب نے ٹھکرایا اور دل کو تڑپایا
نفرتوں کے دَلدَل میں دشمنوں کے چُنگل میں
عادتیں گناہوں کی ہائے! کم نہیں ہوتیں
واری جاؤں میں تم پر آبھی جاؤ اب سرور !
حق نے کردیا مالک تم کو سب خزانوں کا
کیوں فِدا نہ ہو عطارؔ آپ پر شہِ ابرار
آپ کے کرم سے یہ دھوم ہے قیامت میں
— Unknown
