ملی تقدیر سے مجھ کو صَحابہ کی ثناخوانی
رکھا مَحصور ان کو بند ان پر کر دیا پانی
نبی کے نور دو لیکر وہ ذُوالنُّورَین کہلائے
نبی نے تیرے بدلے ’’بیعتِ رضواں ‘‘میں کی بیعت
تمہیں کو جامعِ قرآن کا حق نے دیا منصب
خدابھی اور نبی بھی خود علی بھی اس سے ہیں ناراض
عداوت اور کینہ ان سے جو رکھتا ہے سینے میں
ہم ان کی یادکی د ھومیں مچائیں گے قیامت تک
امامَ الاسخیا! کر دو عطا حصہ سخاوت کا
مجھے اپنی سخاوت کے سمندر سے کوئی قطرہ
عُلوِّشان کاکیوں کر بیاں ہو آپ کی پیارے
سُخن آکر یہاں عطارؔ کا اِتمام کو پہنچا
— Unknown
