قلب میں عشقِ آل رکھا ہے
ایسا جُود و نَوال رکھا ہے
شکر تیرا کہ ان کی اُمّت میں
جمع کر کے کبھی نہ سَروَر نے
حُبِّ دنیا نے یارسولَ اللہ
جو بھی دیکھے بنے وہ دیوانہ
جلد لیجے خبر گناہوں کے
ایسا دو عشق سب کہیں اِس کے
نارِ دوزخ جلائے گی کیوں کر
ہوں گنہگار پر غلاموں میں
میں نثار آپ نے سدا میرا
میں جہنَّم میں گر گیا ہوتا
مصطَفٰے نے ہمارے عیبوں پر
شکریہ تم نے آل کا صدقہ
دیدو زادِ سفر مدینے کا
دیکھو دیوانو! سبز گنبد میں
کیوں جہنَّم میں جاؤں سینے میں
میں کبھی کا بھٹک گیا ہوتا
عاشقِ مال اِس میں سوچ آخِر
تجھ کو مل جائے گا جو قسمت میں
اِس جہاں کے کمال میں بے شک
تجھ سے آقا ترے سُوالی نے
سُن لو شیطاں نے ہر سُو شہوت کا
جنَّتی ہے وہ جس نے سنّت کے
جو ہے گستاخِ مُصطَفٰے اُس کو
کس قدر بختور ہے وہ مومن
مفلسی کا میں کیوں کروں شکوہ
مال کی حِرص مت کرو اِس میں
یہ کرم ہی تو ان کا ہے عطارؔ
— Unknown
