تُو نے مجھ کو حج پہ بُلایا
گردِ کعبہ خوب پھرایا
میدانِ عَرفات دکھایا
بخش دے ہر حاجی کو خدایا
بَہرِ کوثر و بِیرِ زم زم
مولٰی مجھ کو نیک بنادے
بَہرِ صَفا اور بَہر مَروہ
یَا اللہُ یَا رَحمٰنُ
واسِطہ نبیوں کے سَروَر کا
نارِ جہنَّم سے تُو بچانا
سائل ہوں میں تیری وِلا کا
جس دم سُوئے طیبہ سفر ہو
سامنے جب ہو گنبدِ خَضرا
شاہِ مدینہ کی اُلفت دے
میں ہوں بندہ تُو ہے مولٰی
سوزِ اُوَیس و بِلال خُدا دے
حاضِرِ در ہوں میں دُکھیارا
ہے تیرا فرماں اُدْعُوْنِیْ
دے حُسنِ اَخلاق کی دولت کردے عطا اِخلاص کی نِعمت
بخش دے میری ساری خطائیں
دعوتِ اسلامی کی قیوم
یُوں میرا دنیا سے سفر ہو
تاج وتخت وحکومت مت دے
جنّت میں آقا کا پڑوسی
— Unknown
