اے راحت جاں جو تِرے قدموں سے لگا ہو
ایسا نہ کوئی ہے نہ کوئی ہو نہ ہوا ہو
اللہ کا محبوب بنے جو تمھیں چاہے
دل سب سے اُٹھا کر جو پڑا ہو تِرے دَر پر
اُس ہاتھ سے دل سوختہ جانوں کے ہرے کر
ہر سانس سے نکلے گل فردوس کی خوشبو
اُس دَر کی طرف اس لئے میزاب کا منہ ہے
بے چین رکھے مجھ کو ترا دَردِ محبت
یہ میری سمجھ میں کبھی آ ہی نہیں سکتا
اس گھر سے عیاں نورِ الٰہی ہو ہمیشہ
مقبول ہیں اَبرو کے اِشارے سے دعائیں
ہو سلسلہ اُلفت کا جسے زلفِ نبی سے
شکر ایک کرم کا بھی ادا ہو نہیں سکتا
— Hassan Raza Khan Barelvi\
