باغِ جنت میں نرالی چمن آرائی ہے
اُن کے گیسو نہیں رحمت کی گھٹا چھائی ہے
سنگریزوں نے حیاتِ اَبدی پائی ہے
سرِ بالیں انہیں رحمت کی اَدا لائی ہے
جان گفتار تو رَفتار ہوئی رُوحِ رَواں
جس کے ہاتھوں کے بنائے ہوئے ہیں حسن و جمال
تیرے جلوؤں میں یہ عالم ہے کہ چشم عالم
جب تری یاد میں دنیا سے گیا ہے کوئی
سر سے پا تک تری صورت پہ تصدق ہے جمال
تیرے قدموں کا تبرک یدِ بیضائے کلیم
دَردِ دِل کس کو سناؤں میں تمہارے ہوتے
آپ آئے تو منور ہوئیں اَندھی آنکھیں
ناتوانی کا اَلم ہم ضعفا کو کیا ہو
جان دی تو نے مسیحا و مسیحائی کو
چشم بے خواب کے صدقے میں ہیں بیدار نصیب
باغِ فردَوس کھلا فرش بچھا عرش سجا
کھیت سر سبز ہوئے پھول کھلے میل دُھلے
ہاتھ پھیلائے ہوئے دَوڑ پڑے ہیں منگتا
ناامیدو تمہیں مژدہ کہ خدا کی رحمت
فرش سے عرش تک اِک دُھوم ہے اللہ اللہ
اے حسنؔ ُحسنِ جہاں تاب کے صدقے جاؤں
— Hassan Raza Khan Barelvi\
