عرش کی عقل دنگ ہے چرخ میں آسمان ہے
بزمِ ثنائے زُلف میں میری عروسِ فکر کو
عرش پہ جا کے مرغِ عقل تھک کے گِراغش آگیا
عرش پہ تازہ چھیڑ چھاڑ فرش میں طرفہ دُھوم دَھام
اِک ترے رُخ کی روشنی چین ہے دو جَہان کی
وہ جو نہ تھے تو کچھ نہ تھا وہ جو نہ ہوں تو کچھ نہ ہو
گود میں عالمِ شباب حالِ شباب کچھ نہ پوچھ!
تجھ سا سِیاہ کار کون اُن سا شفیع ہے کہاں
پیشِ نظر وہ نو بہار سجدے کو دِل ہے بے قرار
شانِ خدا نہ ساتھ دے اُن کے خرام کا وہ باز
بارِ جلال اُٹھا لیا گرچہ کلیجا شق ہُوا
خوف نہ رکھ رضاؔ ذرا تو تو ہے عَبدِ مصطفٰی
— Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi\
