کھلا ہے سبھی کے لیے باب رحمت
مرادوں سے دامن نہیں کوئی خالی
میں پہلے پہل جب مدینے گیا تھا
وہ دربار سچ مچ میرے سامنے تھا
جو اک ہاتھ سے دل کو تھامے ہوۓ تھا
دعا کے لۓ ہاتھ اٹھتے تو کیسے
دھنی اپنی قسمت کا ہے تو وہی ہے
مقدر ہے سچا مقدر اسی کا
میں توصیف سرکار ﷺ کر تو رہا ہوں
میں بس ایک ادنیٰ ثناء خواں ہوں ان کا
— Unknown
