دشمن ہے گلے کا ہار آقا
تم دل کے لیے قرار آقا
تم عرش کے تاجدار مولی
دامن دامن ہوائے دامن
بندے ہیں گنہگار بندے
اس شان کے ہم نے کیا کسی نے
بندوں کا اَلم نے دل دکھایا
آرام سے سوئیں ہم کمینے
ایسا تو کہیں سنا نہ دیکھا
جن کی کوئی بات تک نہ پوچھے
پاکیزہ دلوں کی زینتِ اِیماں
صدقہ جو بٹے کہیں سلاطیں
چکرا گئی ناؤ بے کسوں کی
اللہ نے تم کو دے دیا ہے
ہے خاک پہ نقشِ پا تمہارا
عالم میں ہیں سب بنی کے ساتھی
سرکار کے تاجدار بندے
دے بھیک اگر جمالِ رنگیں
آنکھوں کے کھنڈر بھی اب بسا دو
ایمان کی تاک میں ہے دشمن
ہو شمعِ شبِ سیاہ بختاں
تو رحمت بے حساب کو دیکھ
دیدار کی بھیک کب بٹے گی
بندوں کی ہنسی خوشی میں گزرے
آتی ہے مدد بلا سے پہلے کرتے نہیں انتظار آقا
تم سایۂ کردگار آقا
ہو اَوجِ کرم حصار آقا
ہر مُلک کے شہریار آقا
آقا تو ہے با وقار آقا
اب غم کی نہیں سہار آقا
سنتے ہو تمہیں پکار آقا
اللہ کرے وقار آقا
سب کا تمہیں اختیار آقا
ہے تاجِ سرِ وقار آقا
اس دَین کے میں نثار آقا
اللہ کو آئے پیار آقا
وہ جلوہ کر آشکار آقا
آرام سے شش جہت میں گزرے
ہو جانِ حسنؔ نثار تجھ پر
— Hassan Raza Khan Barelvi\
