دل درد سے بسمل کی طرح لوٹ رہا ہو
کیوں اپنی گلی میں وہ روادارِ صدا ہو
گر وقتِ اَجل سر تری چوکھٹ پہ جھکا ہو
ہمسایۂ رحمت ہے ترا سایۂ دیوار
موقوف نہیں صبحِ قیامت ہی پہ یہ عرض
دے اس کو دَمِ نزع اگر حور بھی ساغر
فردوس کے باغوں سے ادھر مل نہیں سکتا
دیکھا اُنہیں محشر میں تو رحمت نے پکارا
آتا ہے فقیروں پہ اُنہیں پیار کچھ ایسا
وِیراں ہوں جب آباد مکاں صبح قیامت
ڈھونڈھا ہی کریں صدرِ قیامت کے سپاہی
جب دینے کو بھیک آئے سرِ ُکوئے گدایاں
جھک کر اُنہیں ملنا ہے ہر اِک خاک نشیں سے
تم کو تو غلاموں سے ہے کچھ ایسی محبت
دے ڈالیے اپنے لبِ جاں بخش کا صدقہ
— Hassan Raza Khan Barelvi\
