ذاتِ والا پہ بار بار دُرود
رُوئے اَنور پہ نور بار سلام
اس مہک پر شمیم بیز سلام
ان کے ہر جلوہ پر ہزار سلام
ان کی طلعت پہ جلوہ ریز سلام
جس کی خوشبو بہارِ خلد بسائے
سر سے پا تک کرور بار سلام
دل کے ہمراہ ہوں سلام فدا
چارۂ جان درد مند سلام
بے عدد اور بے عدد تسلیم
بیٹھتے اٹھتے جاگتے سوتے
شہریارِ رُسل کی نذر کروں
گورِ بیکس کو شمع سے کیا کام
قبر میں خوب کام آتی ہے
انہیں کس کی دُرود کی پروا
ہے کرم ہی کرم کہ سنتے ہیں
جان نکلے تو اس طرح نکلے
دل میں جلوے بسے ہوئے تیرے
اے حسنؔ خارِ غم کو دِل سے نکال
— Hassan Raza Khan Barelvi\
