عجب کرم شہِ والا تبار کرتے ہیں
جما کے دِل میں صفیں حسرت و تمنا کی
مجھے فَسُردَگیٔ بخت کا اَلم کیا ہو
خدا سگانِ نبی سے یہ مجھ کو سنوا دے
ملائکہ کو بھی ہیں کچھ فضیلتیں ہم پر
جو خوش نصیب یہاں خاکِ در پہ بیٹھتے ہیں
ہمارے دل کی لگی بھی وہی بجھا دیں گے
اشارہ کر دو تو بادِ خلاف کے جھونکے
تمہارے در کے گداؤں کی شان عالی ہے
گدا گدا ہے گدا تو کیا ہی چاہے اَدَب
تمام خلق کو منظور ہے رضا جن کی
سُنا کے وصفِ رُخِ پاک عندلیب کو ہم
ہوا خلاف ہو چکرائے ناؤ کیا غم ہے
اَنَا لَھَا سے وہ بازارِ کسمپرساں میں
بنائی پشت نہ کعبہ کی ان کے گھر کی طرف
کبھی وہ تاجورانِ زمانہ کر نہ سکیں
ہوائے دامن جاناں کے جانفزا جھونکے
سگانِ ُکوئے نبی کے نصیب پر قرباں
کوئی یہ پوچھے مِرے دل سے میری حسرت سے
وہ ان کے دَر کے فقیروں سے کیوں نہیں کہتے
تمہارے ہجر کے صدموں کی تاب کس کو ہے
کسی بلا سے انہیں پہنچے کس طرح آسیب
یہ نرم دِل ہیں وہ پیارے کہ سختیوں پر بھی
کشودِ عقدۂ مشکل کی کیوں میں فکر کروں
زمین کوئے نبی کے جو لیتے ہیں بوسے
تمہارے دَر پہ گدا بھی ہیں ہاتھ پھیلائے
کسے ہے دِیدِ جمالِ خدا پسند کی تاب
ہمارے نخلِ تمنا کو بھی وہ پھل دیں گے
پڑے ہیں خوابِ تغافل میں ہم مگر مولیٰ
سنا نہ مرتے ہوئے آج تک کسی نے انہیں
انہیں کا جلوہ سرِ بزم دیکھتے ہیں پتنگ
مِرے کریم نہ آہو کو قید دیکھ سکے
جو ذَرّے آتے ہیں پائے حضور کے نیچے
جو موئے پاک کو رکھتے ہیں اپنی ٹوپی میں
جدھر وہ آتے ہیں اب اس میں دل ہوں یا راہیں
حسنؔ کی جان ہو اس وُسعتِ کرم پہ نثار
— Hassan Raza Khan Barelvi\
