اُکھڑے ہوئے پڑے تھے وہ خیموں کے سامنےپانی کے ایک گُھونٹ کی قیمت تھی زندگی
لگ ہی گیا ہجوم دکانوں کے سامنےٹوٹا ہوا پڑا تھا غرورِ یزیدیت
شہزادگانِ دین کی لاشوں کے سامنےحورانِ خلد کوثر و تسنیم لائی تھیں
اللہ کی رضائیں تھیں پیاسوں کے سامنےصبر حسین اصل میں معراجِ صبر تھا
لاشوں کے ڈھیر لگ گئے آنکھوں کے سامنےان کے سروں سے چادریں تک چھین لی گئیں
نکلیں نہ رات کو بھی جو تاروں کے سامنےمنظور تھا یہی مرے پروردگار کو
انساں سے کتنا خوش تھا فرشتوں کے سامنےبجھ کر بھی جگمگا دیا سارے جہان کو
تیرے تیور، میرا زیور
تیرا شیوہ، میرا مسلک
مجھ کو عشق نبی، اس قدر مل گیا
جگمگائے نہ کیوں، میرا عکس دروں
