دلوں سے ہوکے گزرتا ہوا مدینے کو
میں اس کے ساتھ تصور میں چلتا جاتا ہوں
ہزار حسرت و ارماں کے ساتھ دیکھتا ہے
بدن کا دشت سُلگتا تھا ایک مدت سے
مجھے سکون کی دولت نصیب ہوتی ہے
خیال و خواب میں دل میں نگاہ میں نصرتؔ
— Nusrat Siddique\
دلوں سے ہوکے گزرتا ہوا مدینے کو
میں اس کے ساتھ تصور میں چلتا جاتا ہوں
ہزار حسرت و ارماں کے ساتھ دیکھتا ہے
بدن کا دشت سُلگتا تھا ایک مدت سے
مجھے سکون کی دولت نصیب ہوتی ہے
خیال و خواب میں دل میں نگاہ میں نصرتؔ
— Nusrat Siddique\