کوئی سلیقہ ہے آرزو کا
کسی کا احسان کیوں اٹھائیں
تجلیوں کے کفیل تم ہو
تمہی ہو روحِ روانِ ہستی،
شعور و فکر و نظر کے دعوے
نظر نظر رحمت سراپا
عمل میں میرے اساس کیا ہے
عطا کیا مجھ کو دردِ اُلفت
انہی کے در سے خدا ملا ہے
— Unknown
کوئی سلیقہ ہے آرزو کا
کسی کا احسان کیوں اٹھائیں
تجلیوں کے کفیل تم ہو
تمہی ہو روحِ روانِ ہستی،
شعور و فکر و نظر کے دعوے
نظر نظر رحمت سراپا
عمل میں میرے اساس کیا ہے
عطا کیا مجھ کو دردِ اُلفت
انہی کے در سے خدا ملا ہے
— Unknown