اے کاش! شبِ تنہائی میں ، فُرقت کا اَلَم تڑپاتا رہے
بے تاب جگر،قلبِ مُضطَر،دے دیجئے سرور! چشمِ تر
بے چَین رہوں بے تاب رہوں ،میں ہچکیاں باندھ کے روتارہوں
میں عشق میں یوں گم ہو جا ؤں ،ہر گز نہ پتا اپنا پاؤں
جب آؤں مدینے روتا ہوا،ہو سامنے جب رَوضہ تیرا
بے کس ہوں شہا! میں دُکھیارا،لوگوں نے مجھے ہے دُھتکارا
صد شکر خدایا تُو نے دیا،ہے رَحمت والا وہ آقا
جب گرمیِ حشر ہو زَوروں پر،اُس وقت تمنّا ہے سروَر!
ہے میر ی تمنّاربِّ جہاں ،ہر خُرد وکلاں ہر ایک جواں
ہے تجھ سے دعا ربِّ اکبر! مقبول ہو ’’فیضانِ سنّت‘‘
جب میرا یاور ہے سروَر،پھر ڈر محشر کا ہو کیو نکر!
جب تن سے جدا ہو جاں مُضطَر اُس وقت ہو جلوہ پیشِ نظر
یارب! یہ دعا عطاّرؔ کی ہے جس وقت تلک دنیا میں جئے
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
