سرِ محفل کرم اتنا میری سرکار ہو جاۓ
تصور میں ترے ہرشےپہ یوں نظریں جماتا ہوں
غلامِ مصطفیٰ بن کر میں بک جاؤں مدینے میں
سنبھل کر پاؤں رکھنا حاجیوں شہرِ مدینہ میں
فنا اتنا تو ہو جاؤں میں تری ذاتِ عالی میں
تجھے منظور ہے پردہ مجھے پاسِ ادب ورنہ
حبیبؔ اس حال سے ابتر بھی حالِ زار ہو جاۓ
— Unknown
