نبی اور خُدا کی رضا ایک ہےعدم بھی مُحمّؐد کا عینِ وجود
حطیمِ فنا و بقا ایک ہےچلو عرش و طیبہ کی جانب چلیں
مقامات دو ، راستہ ایک ہےپڑھو ، تو مُحمّؐد بھی قُرآن میں
کہ مفہومِ حرف و ادا ایک ہےاندھیروں کی ہیں کتنی ہی بولیاں
طلوعِ سَحر کی نوا ایک ہےادھر اعتکاف اور ادھر انکشاف
فضائے حِرا و صفا ایک ہےمدینہ بھی جنّت ہے میرے لیے
کہ دونوں کی آب و ہَوا ایک ہےضرور اُن کے ہاتھوں میں ہے میری ڈور
مِری اُنگلیوں میں سِرا ایک ہےمظفّر مُحمّؐد مُحمّؐد کرو ں
تیرے تیور، میرا زیور
تیرا شیوہ، میرا مسلک
مجھ کو عشق نبی، اس قدر مل گیا
جگمگائے نہ کیوں، میرا عکس دروں
