سبز گُنبد مِرا انتخابی نشاںکُوچہء مصطفےٰ سے جو آئی ہَوا
کھُل گئیں حُجرہء ذہن کی کھڑکیاںمیرے اشعار ہیں یا بلالِ سخن
دے رہا ہے فصیلِ حرم سے اذاںآپ کی ذات اظہارِ حقّ و یقیں
آپ کی با ت اعلانِ امن و اماںلمحہ لمحہ اطاعت کرے آپ کی
آپ کی آہٹیں کارواں کارواںآپ پیاسے کو دریا عنایت کریں
آپ کی رحمتیں بیکراں بیکرا ںچاند سُورج سمجھتی ہے دُنیا جسے
تیرے تیور، میرا زیور
تیرا شیوہ، میرا مسلک
مجھ کو عشق نبی، اس قدر مل گیا
جگمگائے نہ کیوں، میرا عکس دروں
