مرے اذکار کا، اعمال کا، گفتار کا رُخ
رہا ہے تیرے غلاموں ہی کی دہلیز کی سمت
سعیِ فن ہومری سب تیری ستایش ہی میں صرف
حشر کے دن رہے مجھ ایسے خطاکار کی سمت
ہو اجالا مری سوچوں کا حوالہ تیرا
ہیں کُرے جتنے' توجہ سے تری قائم ہیں
رہے تا عمر فقط تیری رضا کی جانب
کیوں نہ وہ قافلہ فرخندہ مقدر ہو کہ جب
اپنے ہر امتی کی سمت ہو محشر میں ریاضؔ
— Riaz Majeed\
