چلو دیار نبی کی جانب درود لب پر سجا سجا کر
نہ اُنکے جیسا ہے کوئی نہ اُن کے جیسا غنی ہے کوئی
ہماری ساری ضرورتوں پر کفالتوں کی نظر ہے ان کی
وہ راہیں اب تک سجی ہوئی ہیں دلوں کا کعبہ بنی ہوئی ہیں
کبھی جو میرے غریب خانے کی آپ آکر جگائیں قسمت
ہے ان کو امت سے پیار کتنا کرم ہے رحمت شعار کتنا
میں ایسا عاصی ہوں جس کی جھولی میں کوئی حسنِ عمل نہیں ہے
یہی اساسِ عمل ہے میری اسی سے بگڑی بنی ہے میری
کبھی تو برسےگا ابرِ رحمت کبھی تو جاگے گی میری قسمت
میں تیرے قربان میرے ساقی رہے نہ ارمان کوئی باقی
اگر مقدر نے یاوری کی اگر مدینے گیا میں خالدؔ
— Unknown
