آنکھیں بچھا پَیروں تلے
جن پر مرے آقا چلے
چل تُو بھی اُن راہوں پہ چل
حیَّ علیٰ خَیْرِ الْعَملاپنی طرف تکتا نہیں
تُجھ سا کوئی یکتا نہیں
جھونکا کسی طوفان کا
تُجھ کو بُجھا سکتا نہیں
کر بیعتِ عشق و وفا
بن جا چراغِ مصطفےٰ
سینے میں جل ہاتھوں پہ جل
حیَّ علیٰ خَیْرِ الْعَملجب فرض تُجھ کو یاد ہے
پھر تجھ پہ کیوں افتاد ہے
شاگرد یِ دُنیا نہ کر
تُو وقت کا اُستاد ہے
دِل‘ سرورِ دیں سے لگا
آنکھیں نہیں قسمت جگا
چہرہ نہیں ‘ شیشہ بدل
حیَّ علیٰ خَیْرِ الْعَملسارے صنم مسمار کر
خَیْرُ الْبشرؐ سے پیار کر
رکھ کر نبی کو سامنے
آرائشِ کِردار کر
اپنائے گی رحمت تجھے
مِل جائے گی جنّت تجھے
اپنے عذابوں سے نکل
حیَّ علیٰ خَیْرِ الْعَملکیوں سر د ہے تیرا لہُو
مایوس کیوں اِتنا ہے تُو
قُرآن کی آواز میں
سُن نغمہء لاتقنطو
تُجھ میں تو اُس کی باس ہے
جس جانِ حق کے پاس ہے
تیری ہر اِک مُشکل کا حل
تیرے تیور، میرا زیور
تیرا شیوہ، میرا مسلک
مجھ کو عشق نبی، اس قدر مل گیا
جگمگائے نہ کیوں، میرا عکس دروں
